ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / شمالی ہندوستان میں خواتین کی چوٹیاں کاٹنے کی وارداتیں؛ پورے علاقوں میں بھوت اور چُڑیل کی دہشت

شمالی ہندوستان میں خواتین کی چوٹیاں کاٹنے کی وارداتیں؛ پورے علاقوں میں بھوت اور چُڑیل کی دہشت

Fri, 04 Aug 2017 02:46:32    S.O. News Service

لکھنؤ 3/اگست (ایس او نیوز/ایجنسی ) جھارکھنڈ، ہریانہ، راجستھان، پنجاب اور دہلی ہوتے ہوئے ڈائن اور چُڑیل  کی گھبراہٹ اب  اترپردیش کے علاقوں میں پھیلنے  لگی ہے اور  دیکھتے ہی دیکھتے  چُڑیل کی دہشت آگرہ، متھرا، علی گڑھ ہاتھرس ہوتے ہوئے اٹاوہ-قنوج تک پہنچ گئی اور جمعرات دیر رات تک تقریبا پورے  اُترپردیش میں اس طرح کے واقعات پیش آنے کے بعد ہر طرف  خوف  اور دہشت کا ماحول پیدا ہوگیا ہے، جس کے بعد   پولیس نے مورچہ سنبھالتے ہوئے  معاملات کی تفتیش شروع کر دی ہے۔

پولس نے افواہوں سے ہوشیار رہنے اور خوف و دہشت کے ماحول سے باہرنکلنے کی عوام سے اپیل کی ہے، مگر سمجھا جارہا ہے کہ  کوئی تو ہے، جو خواتین کی چوٹیوں کو کاٹ رہا ہے۔ ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق  متھرا میں خواتین کے بالوں کی چوٹی کاٹنے کی 14 وارداتیں پیش آئی ہیں، وہیں  جھانسی میں تین، علی گڑھ میں چار، قنوج میں دو، امروہہ-جالون-فرخ آباد-چترکوٹ-شاہ جہاں پور-بجنور-اٹاوہ میں ایک جبکہ  آگرہ میں چوٹی کاٹنے کی کئی وارداتیں پیش آئیں ہیں. قابل ذکر بات یہ ہے کہ آگرہ کا مٹني وہ گاؤں ہیں جہاں اس وہم  کی پہلی شکار ایک خاتون ہوئی تھی. جسے  بدھ کے روز  اِرد گرد کے لوگوں نے چُڑیل  قرار دے کر مار ڈالا تھا۔ بتایا جارہا ہے کہ  مان دیوی نامی یہ معمر خاتون دلت طبقہ سے تعلق رکھتی ہے، جسے  چُڑیل قرار دے کر اعلیٰ ذات کے لوگوں نے پیٹ پیٹ کر مارڈالا، ان لوگوں کا کہنا تھا کہ یہی عورت جادو ٹونا کرکے خواتین کی  بال کٹواتی ہیں۔

دوسری ریاستوں سے پھیلی افواہ

چوٹی کاٹنے کے  معاملے پر اے ڈی جی  ایل او۔ آنند کمار نے لوگوں سے افواہوں پر توجہ نہ  دینے کی اپیل کی ہے. انہوں نے کہا کہ شرپسند عناصر افواہ پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں. مگر پولیس اس معاملے پر نظر رکھ رہی ہے.ان کے مطابق دوسری ریاستوں سے یہ افواہ اب اُترپردیش میں پھیلی ہے.جس کے بعد تمام اضلاع کے پولس تھانوں میں الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق   فی الحال یہ کسیمنظم گروپ  کا کام نہیں لگ رہا ہے، مگر چھان بین جاری ہے۔

عورت کی چوٹی كٹ کر گری

میڈیا کی خبروں پر بھروسہ کریں تو ہاتھرس کے چندپا میں گھر میں کام کر رہی ایک عورت کی چوٹی كٹ کر گر گئی. اس سے لوگوں میں دہشت  پھیل گئی. اٹاوہ میں رات کو ایک  عورت بال کاٹنے والوں سے بچنے کی کوشش میں زخمی ہوگئی. علی گڑھ کے خیر  قصبے میں ٹہل رہی ایک خاتون کو آج چوٹی کاٹنے والی کے شک میں  پکڑ کر اُس کی سرعام پیٹائی کی گئی. علی گڑھ کے گاؤں مادک  میں ایک لڑکی اور عورت کی چوٹی کٹنے کی پولیس تحقیقات کر رہی ہے. جھانسی کے لوهر اور دواكر اور بجولي گاؤں میں 3 خواتین کی نامعلوم لوگوں کی طرف سے چوٹی کاٹی جانے کی اطلاع ملی۔

کنائوج میں دو خواتین کی چوٹی کٹی

خبروں کے مطابق کنائوج کے گاؤں تيور میں دو خواتین کی چوٹی کٹی ہوئی ملی. گاؤں کے لکشمن شنکھوار کی اہلیہ  سودھا (30)  اپنے کھیتوں کی طرف گئی تھی. واپس لوٹنے کے بعد جب چہرہ دھو کر  بال سنوارنے کے لئے  اس نے سر پر ہاتھ پھیرا  تو حیرت انگیز طور پر اس  سر کے بال غائب تھے. اسی طرح گاؤں کی ایک اور عورت کی چوٹی کٹنے کی بات بھی سامنے آئی ہے. جس کے تعلق سے معلومات جمع کی جارہی ہے، ان دو واقعات کے سامنے آنے کے بعد اب  اس گاؤں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے. ارد گرد کے لوگ بھی معلومات لینے پہنچ رہے ہیں. متاثرہ خاتون نے اپنے کٹے ہوئے  بال بھی لوگوں کو دکھائے ہیں۔

کٹی ہوئی چوٹی دیکھ کر  حالت بگڑگئی

بریلی کے گاؤں ببن خان میں رہنما کی چوٹی صبح کٹی ہوئی  ملی. بدایوں کے موجم پور میں ہیمراج جاٹو کی بیوی کی چوٹی دوپہر میں سوتے وقت کٹ گئی. شاہ جہاں پور کے كلابوجھ دیویندر کی بیوی روشنی دروازے پر بیٹھی تھی کہ  اچانک اس کی چوٹی کٹی دیکھ کر وہ بیہوش ہو کر گرگئی۔ آگرہ کے کھیڑا بھگور میں چندربھان کی بیٹی ریکھا  کے بال صبح کٹے ہوئے ملے. بیگھا  گاؤں میں رادھا کی چوٹی کٹی ہوئی پائی  گئی. آگرہ کے ديال باغ   میں سوکر اٹھنے پر منی دیوی کے بال کٹے ہوئے ملے. متھرا کے بھینس بهورا میں راما سینی کی چوٹی کٹنے سے طبیعت بگڑ گئی بعد میں انہیں ہسپتال پہنچایا گیا.

کئی چوٹیاں کٹی ہوئی پائی گئیں

فیروز آباد  کے امري گاؤں میں سوکر اُٹھنے کے بعد  کشوری  کی چوٹی کٹی ہوئی ملی. علی گڑھ کے گاؤں نرواري کی رہنے والی رچنا اور اسی گاؤں کی ساجدہ کی چوٹی صبح کٹی حالت میں ملی. كجروٹھ کی رہنے والی حسینہ بیگم کی دوپہر میں سوتے وقت کسی نے چوٹی کاٹ دی. بلواپور میں بھی عورت کی چوٹی کٹی ہوئی پائی  گئی. ایس ایس پی راجیش پانڈے نے اس تعلق سے بتایا کہ کوئی شرارت کررہا ہے اور عورتوں کے بالوں کو کاٹ کر خوف اور دہشت کا ماحول پیدا کررہا ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اس طرح کے واقعات کو انجام دینے والے غیر سماجی عناصر پر سخت کارروائی کی جائے گی. مزید بتایا کہ اس کے لئے پولس کی خصوصی ٹیم قائم کی گئی ہے.

ایک طرف خواتین میں بھوت اور چُڑیل کی دہشت پھیل گئی ہے تو دوسری طرف بال کاٹنے کے نام پر دلت خواتین کو نشانہ بنانے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، ماجرا کیا ہے، اس کی چھان بین میں پولس جُٹ گئی ہے۔

 


Share: